دعوتِ حق

Fancy separator

امّت میں اس وقت متعدّد فرقے پائے جاتے ہیں۔ ہر فرقہ " كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُوْنَ" کے بمصداق اپنے عقائد اور اعمال کو حق سمجھتا ہے اور ان پر پوری طرح سے مطمئن اور مگن ہے۔ عقائد اور اعمال کے لحاظ سے ہر فرقہ دوسرے فرقے سے کافی حد تک مختلف ہے لیکن عقائد اور اعمال کے اس عظیمُ الشّان اختلاف کے باوجود ان تمام فرقوں میں کچھ قدریں مشترک ہیں جن پر سب کا اتّفاق ہے اور یہ ہی وہ قدریں ہیں جن پر تمام فرقوں کو جمع ہونے کی دعوت بآسانی دی جا سکتی ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے قدرِ مشترک رکھنے والوں کو اسی اصول پر مجتمع و متّحد ہونے کی دعوت دی۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :-

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰی كَلِمَةٍ سَوَآءٍ ۭ بَیْنَنَا وَ بَیْنَڪُمْ اَ لَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَ لَا نُشْرِكَ بِهٖ شَیْـًٔا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ،فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ۝۶۴

(سُوْرَۃُ اٰلِ عِمْرٰنَ: ۳ ، آیت : ۶۴ ) (اے رسول، ان سے) کہہ دیجیے: اے اہلِ کتاب ایک ایسی بات کی طرف آؤ جو ہم میں اور تم میں مشترک ہے، (وہ یہ) کہ ہم اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کریں، اس کے ساتھ ذرا سا بھی شرک نہ کریں اور اللہ کے علاوہ (آپس میں) ایک دوسرے کو اپنا ربّ نہ بنائیں، پھر اگر یہ (اس دعوت سے) منھ موڑیں تو (اے مسلمین ان سے) کہہ دو (کہ اے اہلِ کتاب) تم گواہ رہنا کہ ہم تو مسلم ہیں (ہم ان اصولوں کو مانتے بھی ہیں اور ان پر کار بند بھی ہیں)۔

مذکورہ بالا دعوت کا لُبِِّ لُباب یہ ہے کہ اللہ پرستی اختیار کرو، شخصیت پرستی چھوڑدو اور یہ حقیقت ہے کہ فرقہ بندی کی ابتدا اللہ پرستی چھوڑ نے، نبیؐ کی تعلیمات سے منھ موڑنے اور شخصیت پرستی اختیار کرنے سے ہوتی ہے کسی شخص سے عقیدت جب غُلو کی حد تک پہنچ جائے یعنی جب اس کے قول اور فعل کو حق بلکہ معیارِ حق سمجھ لیا جائے تو پھر یہ عقیدت شخصیت پرستی کے مترادف ہے اور یہ ہی وہ چیز ہے جس کی ممانعت اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا آیت میں فرمائی ہے۔ آیت کا مفہوم بالکل واضح ہے یعنی جب کسی شخص کو عقیدت و احترام کا اتنا بلند مقام دیا جائے کہ اس کی بات کو حتمی و قطعی سمجھا جائے تو یہ گویا اس کو ربّ بنانا ہے اور یہ فعل ایک قسم کا شرک ہے۔ دینی معاملات میں فیصلہ کرنے کا حق صرف اللہ تعالیٰ کو ہے اور یہ چیز توحید کے مسلّمہ اصولوں میں سے ایک اصول ہے اور اس کا ماننا شرطِ ایمان ہے۔

ہم امّت کے تمام فرقوں کو اس اصولِ توحید کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے تمام احکامِ شرعیہ قرآن اور حدیث کے اندر محفوظ و مکمّل ہیں اور قرآن اور حدیث تقریبًا تمام فرقوں میں مشترک ہیں لہٰذا تمام فرقوں کو ہماری دعوت یہ ہے کہ وہ ان مشترک قدروں پر جمع ہو جائیں۔ تمام فرقہ بندیوں کو ختم کر کے ایک مرکز پر آجائیں۔ صرف اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو تسلیم کریں۔ صرف قرآن اور حدیث پر عمل کریں۔ تمام فرقہ وارانہ امتیازی ناموں کو ختم کر کے اپنے آپ کو صرف مسلؔم کہیں۔ تمام فرقہ وارانہ مذاہب کو یکسر مٹادیں اور صرف دینِ اسلام کو اپنا دین مانیں۔ فرقہ وارانہ مذاہب کو باقی رکھنا گویا کئی اسلام بنانا ہے حالاں کہ اسلام صرف ایک ہے۔ آئیں صرف ایک اسلام کو مانیں جو قرآن و حدیث میں ہے۔

رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں :-

يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ قَدْ تَرَكْتُ فِيْكُمْ مَا اِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِهٖ فَلَنْ تَضِلُّوْااَبَدًا ڪِتَابَ اللهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهٖ (رواه الحاكم، فى كتاب العلم، المستدرك، جزء اول صفحہ 93،حديث : 318 / 322، وسنده حسن، التعليقات للالبانى على المشكٰوة، جزء اول صفحہ 66، حديث : 186) اے لوگو، میں تم میں ایسی چیز چھوڑ رہا ہوں کہ اگر تم نے اسے مضبوطی سے پکڑ لیا تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے : اللہ کی کتاب اور اُس کے نبیؐ کی سنّت۔

جب کتابُ اللہ اور سنّتِ رسولؐ ہی کو مضبوطی سے پکڑنے سے گمراہی سے بچا جا سکتا ہے تو آئیں کتابُ اللہ اور سنّتِ نبویؐ کو مضبوطی سے پکڑ لیں اور سب ایک ہو جائیں۔ صرف قرآن مجید اور حدیثِ نبویؐ کو حجّت مانیں، قرآن مجید اور حدیثِ نبویؐ پر عمل کریں، قرآن مجید اور حدیثِ نبویؐ پر عمل کرنے کی دعوت دیں، قرآن مجید اور حدیثِ نبویؐ کی اشاعت کریں، قرآن مجید اور حدیثِ نبویؐ کی عملی اور علمی طور پر حفاظت کریں، قرآن مجید اور حدیثِ نبویؐ کے خلاف کسی کی بات نہ مانیں۔

اوپر ہم یہ بات بتا چکے ہیں کہ کسی شخص کو عقیدت اور احترام کا اتنا بلند مقام دینا کہ اس کی بات کو قطعی اور واجب التّعمیل سمجھا جائے اس کو ربّ بنانا ہے۔ اب ہم اس کی مزید وضاحت کرتے ہیں :

اہلِ کتاب اس بات کا اقرار کرتے تھے کہ آپس میں ایک دوسرے کو اپنا ربّ نہیں بنانا چاہیے، ربّ صرف اللہ تعالیٰ ہے، اُس کے علاوہ کوئی ربّ نہیں۔ ان کے اسی اقرار کو بنیاد بناکر اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا کہ ایک ایسی بات کی طرف آؤ جو مسلمین میں اور تم میں مشترک ہے۔ یعنی جس کو مسلمین بھی تسلیم کرتے ہیں اور تم بھی تسلیم کرتے ہو۔ اہلِ کتاب کا اس اصول کو تسلیم کرنا صرف ان کی زبانوں پر تھا، عملاً وہ اس پر کار بند نہیں تھے بلکہ انھوں نے ایک دوسرے کو اپنا ربّ بنا رکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-

اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ،

(سُوْرَۃُ التَّوْبَۃِ : ۹، آیت : ۳۱) اہلِ کتاب نے اپنے علما اور اپنے پیروں کو اللہ کے علاوہ اپنا ربّ بنا رکھا ہے اور مسیح ابنِ مریمؑ کو بھی (ربّ بنا رکھا ہے)۔

بالکل یہ ہی حال اس امّت کے فرقوں کا ہے، وہ بھی زبان سے اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو اپنا ربّ نہیں بنانا چاہیے یعنی کسی شخص کی "رائے اور قیاس" کو شریعت کا درجہ نہیں دینا چاہیے، واجب التّعمیل اور شرعی قانون صرف اللہ تعالیٰ کا حکم اور اس کا مقرّر کردہ ضابطہ ہے جو قرآن مجید اور احادیثِ صحیحہ میں محفوظ ہے، لیکن اس زبانی اقرار کے باوجود اہلِ کتاب کی طرح وہ بھی عملاً اس اصول پر کار بند نہیں ہیں اور اس کا زندہ ثبوت موجودہ فرقوں کا وجود ہے۔ اگر وہ عملاً بھی اس اصول کو تسلیم کرتے اور صرف قرآن مجید اور احادیثِ صحیحہ پر عمل پیرا ہوتے اور کسی شخص کی "رائے اور اجتہاد" کو دین میں داخل نہ کرتے تو آج یہ تمام فرقہ بندیاں نہ پائی جاتیں۔ کسی اصول کو محض زبان سے تسلیم کرنا اور عملاً اس سے رُوگردانی کرنا حقیقت پسندی کے خلاف ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دِل کی گہرائیوں سے یہ اصول تسلیم نہیں ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ اصولاً جس ذات یا شخصیت کو وہ آخری سند قرار نہیں دیتے، کس طرح عمل کی دنیا میں اسی کو آخری سند قرار دے دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو جب قرآن مجید اور احادیثِ صحیحہ کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دی جاتی ہے تو وہ عقیدت کے جذبے سے سرشار ہو کر دِل میں ایک قسم کی بیزاری محسوس کرتے ہیں گویا عقیدت کا یہ جذبہ انھیں اس شخصیت سے جس سے ان کو عقیدت ہوتی ہے بالا تر ہو کر سوچنے اور سمجھنے میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔ وہ عقیدت میں اتنا کھو جاتے ہیں کہ بالا ترین ہستی کے فرمان کو عملاً نظر انداز کر دیتے ہیں۔ غرض یہ کہ اہلِ کتاب کی طرح اصول تسلیم کرنے کے باوجود عملاً اس اصول سے انحراف کرتے ہیں اور جس شخصیت پرستی کا وہ اصولاً انکار کرتے ہیں اُسی شخصیت پرستی کو عملاً اختیار کرتے ہیں۔ قول اور فعل کا یہ تضاد اور عقیدت میں اتنا غُلو کیا ایمان کے منافی نہیں ہے ؟

قارئینِ کرام، سوچیے کیا یہ صورت مستحسن ہے؟ آپ فرمائیں گے ہرگز نہیں تو پھر آئیں ہم سب مل کر اپنے قول و فعل میں اتحاد پیدا کریں اور جس اصول کو ہم محض رسمًا زبان سے تسلیم کرتے ہیں اس کو دِل کی گہرائیوں سے تسلیم کریں اور اپنے عمل کو اس اصول کا تابع بنائیں۔ کسی شخص کی رائے، قیاس، فتوے اور اجتہاد کو آخری سند قرار نہ دیں بلکہ ہمیشہ قرآن مجید کی آیات اور احادیثِ صحیحہ کو آخری سند قرار دیں، قرآن مجید اور احادیثِ صحیحہ پر براہِ راست عمل کریں۔ قرآن مجید اور حدیثِ نبویؐ ہی حجّتِ شرعیہ ہیں، قرآن مجید اور حدیثِ نبویؐ ہی اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ قانون ہے، قرآن مجید اور حدیثِ نبویؐ ہی اللہ مالک الملک کا نازل کردہ ضابطۂ حیات ہے، قرآن مجید اور حدیثِ نبویؐ پر ہی عمل کرنے میں نجات ہے اور بس۔

اوپر ہم بتا چکے ہیں کہ اللہ ذو الجلال والاکرام نے اہلِ کتاب کو ایسی قدروں کی طرف دعوت دی جو مسلمین اور اہلِ کتاب میں مشترک تھیں، یعنی ۝۱ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کریں ۝۲ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی قسم کا ذرا سا بھی شرک نہ کریں ۝۳ اور ایک دوسرے کو اپنا ربّ نہ بنائیں۔

اوپر ہم یہ بھی بتا چکے ہیں کہ اہلِ کتاب کے زبانی اقرار کے اعتبار سے تو یہ قدریں مشترک تھیں لیکن عملی اعتبار سے یہ قدریں مشترک نہیں تھیں۔ انھوں نے آپس میں ایک دوسرے کو اپنا ربّ بنا رکھا تھا اور عملاً وہ شخصیت پرستی کا شکار ہو گئے تھے۔ ان کا زبان سے اقرار کرنا کافی نہیں سمجھا گیا ۔ ان کو دعوت دی گئی کہ وہ عملاً بھی اس اصول کو تسلیم کریں اور مسلمین کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائیں۔

اب ہم اس شخصیت پرستی کی قباحت پر روشنی ڈالتے ہیں۔ سورۂ توبہ کی جو آیت صفحہ ۳ تا ۴ پر درج کی گئی ہے اس کے آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا،لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ،

(سُوْرَۃُ التَّوْبَۃِ : ۹، آیت : ۳۱) (اہلِ کتاب نے علما اور مشائخ کو ربّ بنالیا تھا) حالاں کہ انھیں یہ حکم دیا گیا تھا کہ ایک الٰہ کی عبادت کریں، اُس (ایک) اللہ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں۔

اس آیت سے ثابت ہوا کہ اہلِ کتاب علما اور مشائخ کی عبادت کرتے تھے حالاں کہ انھیں صرف ایک الٰہ کی عبادت کا حکم تھا۔ اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ کسی عالم یا درویش کو ربّ بنانا گویا اس کی عبادت کرنا ہے۔ اہلِ کتاب کو صرف ایک الٰہ کی عبادت کا حکم تھا لیکن انھوں نے اس پر عمل نہیں کیا بلکہ علما اور پیروں کو ربّ بنا کر عملاً کئی الٰہ بنا لیے۔ ظاہر ہے کہ ان کا یہ عمل شرک تھا اسی لیے اللہ تعالی نے آگے فرمایا :-

سُبْحٰنَهٗ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۝۳۱

(سُوْرَۃُ التَّوْبَۃِ : ۹، آیت : ۳۱) اللہ ان کے شرک سے جو یہ کر رہے ہیں پاک و منزّہ ہے۔

پوری آیت کا خلاصہ یہ ہوا کہ اہلِ کتاب نے علما اور مشائخ کو ربّ بنایا یعنی ان کی عبادت کی، ان کو الٰہ بنا لیا اور اس طرح عملی طور پر شرک کیا، اللہ تعالیٰ ان کے اس شرک سے پاک و منزّہ ہے۔

قارئین کرام سمجھ گئے ہوں گے کہ اہلِ کتاب عقیدۃً مشرک نہیں تھے۔ زبان سے بھی عقیدۂ توحید کا اقرار کرتے تھے اور کسی شخص کو ربّ بنانا جائز نہیں سمجھتے تھے لیکن اس کے باوجود وہ مشرک تھے۔ کیوں؟ صرف اس لیے کہ ان کا عمل اس عقیدۂ توحید کے منافی تھا، وہ کہتے کچھ تھے اور کرتے کچھ تھے۔

اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ توحید کے منافی عقیدہ رکھنا یا زبان سے اقرار کرنا ہی شرک نہیں بلکہ توحید کے منافی عمل کرنا بھی شرک ہے۔ الغرض شخصیت پرستی شرک ہے اور ایسا ہی شرک ہے جیسا کہ (نعوذ باللہ) عیسٰی علیہ السّلام کو اللہ وحدہٗ لا شریک لہُ کا بیٹا بنانا، کیوں کہ الله وحدہٗ لا شریک لہُ نے دونوں کا یکجا ذِکر فرمایا ہے۔

شخصیت پرستی اختلاف و افتراق کی اصل ہے۔ اسی سے فرقہ بندی کی ابتدا ہوتی ہے اور اسی سے فرقہ بندی کی حفاظت ہوتی ہے۔ یہ ہی ضد اور ہٹ دھرمی کا باعث ہے اور اسی کی وجہ سے حق کا انکار کیا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ وَ لٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ كَفَرَ،

(سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ: ۲ ، آیت : ۲۵۳) اگر اللہ چاہتا تو ان ( نبیّوں کے انتقال) کے بعد لوگ کھلے دلائل آجانے کے بعد کبھی نہ لڑتے لیکن انھوں نے (کھلے دلائل کی موجودگی میں) اختلاف کیا پھر ان میں سے کچھ لوگ تو ایمان لے آئے اور کچھ لوگوں نے (حق کا) انکار کر دیا۔

اللہ تعالیٰ کا قانونِ مشیّت یہ ہی ہے کہ جو لوگ شخصیت پرستی اور ضد کی وجہ سے حق کا انکار کردیں ان کا ایمان لانا ناممکن ہے۔ ان کا ایمان نہ لانا شخصیت پرستی، ضد اور ہٹ دھرمی کا لازمی نتیجہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرّر ہے۔ غور کیجیے کیا یہ ہی حال آج کل موجودہ فرقوں کا نہیں ہے۔ کیا یہ لوگ قرآن مجید اور حدیثِ نبویؐ کے کھلے دلائل مل جانے کے بعد محض بزرگوں کی شخصیت کو بہانہ بناکر غلط عقیدے اور غلط عمل پر (قائم) نہیں رہتے۔ کیا یہ لوگ قرآن مجید اور صحیح حدیث کے کھلے دلائل کو توڑ مروڑ کر اپنے موروثی مذہب کے مطابق نہیں بناتے۔ کیا یہ مومن کی شان ہے کہ اپنے آبائی طریقے پر قرآن مجید اور حدیثِ نبویؐ کو قربان کر دے۔ کھلے دلائل کی عدم موجودگی میں بھی اختلاف بُری چیز ہے لیکن کھلے دلائل کی موجودگی میں اختلاف پر قائم رہنا اس سے بھی زیادہ بُری چیز ہے۔ یہ تو حق کا انکار ہے اور یہ صریح کفر ہے۔ شخصیت پرستی اور اللہ تعالیٰ کے دین میں مختلف بزرگوں کے اقوال و آرا کو شامل کرنا کیا شرک فی الدّین نہیں ہے؟ یقیناً ہے تو پھر سوچیے کہ ان اقوال و آرا کو قرآن مجید اور حدیثِ نبویؐ پر ترجیح دینا کتنا بڑا شرک اور کفر ہوگا۔ العیاذ بالله!

اگر آبائی مذہب حق ہے تو پھر ہمیں سوچنا چاہیے کہ کس فرقے یا فرد کا آبائی مذہب حق ہے۔ ظاہر ہے کہ سب فرقہ وارانہ یا آبائی مذاہب تو حق نہیں ہو سکتے۔ حق تو ایک ہی ہو سکتا ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ان مذاہب میں عقائد اور اعمال کا زبردست اختلاف ہو، حلال اور حرام کا فرق ہو پھر بھی وہ سب حق ہوں۔ قرآن مجید اور حدیثِ نبویؐ بے شک حق ہے اور یہ ہی معیارِ حق ہے۔ اس معیار پر تمام فرقہ وارانہ مذاہب اور علما اور مشائخ کے فتووں اور ان کے کردار کو پرکھنا چاہیے۔ اگر وہ اس معیار کے مطابق ہیں تو حق ہیں ورنہ باطل۔ کتنا بڑا ظلم ہے کہ لوگوں نے علما اور بزرگوں کے اقوال و افعال کو معیار بنالیا اور قرآن مجید اور احادیثِ صحیحہ کو ان پر پر کھنے لگے۔ اگر قرآن مجید کی آیت یا کسی حدیث صحیح کا مفہوم ان کے کسی بزرگ کے قول و فعل کے خلاف ہوا تو آیت یا حدیث کو مسترد کر دیا۔ کیا یہ الٹی گنگا بہانے کے مترادف نہیں ہے؟ کیا اس طرح اللہ تعالیٰ کا دین اپنی اصل حالت پر قائم رہ سکتا ہے؟ کیا اس طرح اختلاف و افتراق مٹ سکتا ہے؟ کیا اس طرح فرقہ بندی کو ختم کیا جا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ ہر وہ شخص جس کے دِل میں ذرا سا بھی اللہ تعالیٰ کا خوف ہے اور جو ذرا سی بھی عقلِ سلیم رکھتا ہے وہ اس طرزِ عمل کے باطل ہونے پر اللہ تعالیٰ کی قسم کھا سکتا ہے۔ بزرگوں کے قول و فعل کو معیار بنانے سے اختلاف ختم نہیں ہو گا بلکہ اور بڑھتا چلا جائے گا۔ جتنے بزرگ، اتنے ہی معیار اور جتنے معیار، اتنے ہی مذاہب لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز باعثِ اختلاف و افتراق ہے اسی کو معیار بنا بیٹھے، تو ایسی صورت میں اختلاف و افتراق کیسے ختم ہو گا اور امّت کس طرح متّحد و متّفق ہوگی؟

اللہ تعالیٰ نے تو اس اختلاف و افتراق کی جڑ کو ختم کرنے کے لیے فرمایا تھا :-

اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّڪُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ،قَلِیْلًا مَّا تَذَڪَّرُوْنَ ۝۳

(سُوْرَۃُ الْاَعْرَافِ: ۷، آیت : ۳) (اے لوگو) جو (شریعت) تم پر تمہارے ربّ کی طرف سے نازل ہوئی ہے (بس) اسی کی پیروی کرو، اس کے علاوہ ولیوں کی پیروی نہ کرو، (مگر) تم نصیحت کم ہی قبول کرتے ہو۔

اس آیت نے معاملے کو بالکل صاف کر دیا۔ آیت کی رُو سے پیروی صرف اس چیز کی کرنی ہے جو منزّل من اللہ ہو۔ منزّل من اللہ قرآن مجید اور حدیثِ نبویؐ ہے اور بس، لہٰذا صرف قرآن مجید اور حدیثِ نبویؐ کی پیروی کرنی چاہیے۔ علما اور ائمّہ کے اقوال و افعال، موروثی اور آبائی مذہب اور تمام فرقہ وارانہ مسالک و مذاہب یقیناً منزّل من اللہ نہیں ہیں لہٰذا آیتِ مذکورہ کی رُو سے ان کی پیروی منع ہے؛ سوچیے! کیا ایمان کی یہ ہی شان ہے، کہ جس چیز کی پیروی کو اللہ تعالیٰ نے فرض کیا تھا اس کی پیروی تو کرتے نہیں اور جس چیز کی پیروی کو اللہ تعالیٰ نے ممنوع قرار دیا تھا اس کی پیروی میں لگے ہوئے ہیں، اس کو سینے سے لگا رکھا ہے اور نتیجۃً فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ کیا یہ فرقہ بندی آپ کو پسند ہے؟ یقیناً آپ کو پسند نہیں ہوگی کیوں کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰۤی اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ یَلْبِسَكُمْ شِیَعًا وَّ یُذِیْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ،اُنْظُرْ ڪَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَفْقَهُوْنَ۝۶۵

(سُوْرَۃُ الْاَنْعَامِ: ۶، آیت : ۶۵) (اے رسول) آپ کہہ دیجیے کہ اللہ اس بات پر قادر ہے کہ تم پر تمھارے اوپر سے عذاب بھیج دے، یا تمھارے پیروں کے نیچے سے عذاب بھیج دے یا تمھیں فرقے فرقے بنا کر ایک دوسرے سے الجھادے اور آپس کی لڑائی کا مزا چکھائے، (اے رسول) دیکھیے ہم کس کس طرح الفاظ بدل بدل کر اپنی آیتوں کو بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ سمجھ جائیں۔

آپ دیکھیے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرقہ بندی کو اپنا عذاب فرمایا تو کیا آپ کو اس عذاب میں رہنا پسند ہے؟ کیا آپ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا آپ پر غضب ہو اور وہ اپنا عذاب آپ پر بھیجتا رہے یا اپنے عذاب میں آپ کو مبتلا رکھے۔ یقیناً یہ چیز آپ پسند نہیں کریں گے۔ اگر واقعی آپ اس چیز کو پسند نہیں کرتے تو فرقہ بندی ختم کردیجیے۔

فرقہ بندی بغیر اختلاف کے وجود میں نہیں آتی لہٰذا ثابت ہوا کہ اختلاف ہی عذاب کی اصل وجہ ہے، اختلاف ہی عذاب کا باعث ہے۔ اس سلسلے میں کسی نے ایک جملہ "اِخْتِلَافُ اُمَّتِیْ رَحْمَةٌ " (میری امّت کا اختلاف رحمت ہے) گھڑ کر رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی طرف منسوب کر دیا۔ عوام نے غیر شعوری طور پر اسے حدیث سمجھ لیا اور اس طرح افسوس ہے کہ جو چیز موجبِ عذاب تھی اس کو رحمت سمجھ لیا اور اس طرح فرقہ بندی کے لیے جواز پیدا کر لیا۔ اب فرقہ بندی ختم ہو تو کیسے؟ کیا اب بھی آپ کو ہوش نہیں آئے گا کہ اس عذابِ الہٰی سے نجات حاصل کرنے کی فکر کریں؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَ۝۱۱۸اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّڪَ،وَ لِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ،وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ۝۱۱۹

(سُوْرَۃُ ھُوْدٍ : اا ، آیت : ۱۱۸ تا ۱۱۹ ) اور (اے رسول) اگر آپ کا ربّ چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی جماعت بنا دیتا (اور اختلاف سے ان کو بچا لیتا لیکن اللہ تو یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون اختلاف کرتا ہے اور کون اختلاف سے بچتا ہے، لہٰذا) لوگ ہمیشہ اختلاف میں مبتلا رہیں گے۔ مگر جس پر آپ کے ربّ کا رحم ہو جائے (بس وہ ہی اختلاف سے بچ جائے گا) اور اُس نے تو اسی لیے ان کو پیدا کیا ہے ( کہ ان پر اپنا رحم و کرم کرے لیکن لوگ اختلاف کرکے اپنے آپ کو رحم و کرم کے بجائے دوزخ کا مستحق بنا لیتے ہیں تو اے رسول، اس طرح) آپ کے ربّ کی بات پوری ہو کر رہے گی (جو وہ پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ) میں دوزخ کو جنّات اور انسانوں سے بھر دوں گا۔

مندرجہ بالا آیت سے ثابت ہوا کہ :-

۝۱ اللہ تعالیٰ سب کو ایک جماعت دیکھنا پسند کرتا ہے لیکن اس کی مشیّت میں ہے کہ وہ زبردستی ایسا نہیں کرتا کہ سب کو ایک کر دے،

۝۲ لوگ ہمیشہ اختلاف میں مبتلا رہیں گے،

۝۳ اختلاف سے صرف وہ لوگ بچ جائیں گے جن پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوگی،

۝۴ اللہ تعالیٰ نے سب کو اپنی رحمت سے نوازنے کے لیے پیدا کیا ہے لیکن وہ خود اپنے آپ کو اس کا مستحق نہ بنا کر دوزخ میں جانے کا سامان کرتے ہیں،

۝۵ اختلاف کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ دوزخ کو بھر دے گا۔

الغرض اختلاف موجبِ رحمت نہیں، موجبِ عذاب ہے اور نہ صرف دنیا میں موجبِ عذاب ہے بلکہ آخرت میں بھی موجبِ عذاب ہے۔

رسول الله صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا تھا :-

وَلَا تَخْتَلِفُوا فَاِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ اخْتَلَفُوْا فَهَلَكُوْا ۔ (صحیح بخارى، كتاب أحاديث الأنبياء، حديث : 3476 / 3289، وروى مسلم، نحوهُ فى كتاب العلم، حديث6776 / 2666: ) اختلاف نہ کیا کرو کیوں کہ تم سے پہلے جو لوگ تھے انھوں نے اختلاف کیا تو وہ ہلاک ہوگئے۔

رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے جب حضرت معاذؓ اور حضرت ابو موسیٰؓ کو یمن روانہ کیا تو ان سے فرمایا تھا :-

تَطَا وَعَا وَلَا تَخْتَلِفَا

(صحیح بخارى، كتاب الجهاد، باب ما يكره من التنازع، حديث : 3038 / 2873)، وصحیح مسلم، كتاب الجہاد، باب فی الأمر بالتيسير، حديث : 4526 / 1733 ) اتّفاق رکھنا، اختلاف نہ کرنا۔

مندرجہ بالا احادیث سے معلوم ہوا کہ اختلاف کرنے کی سخت ممانعت ہے۔ اگر اختلاف رحمت ہوتا جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے تو رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم اختلاف سے کیوں منع کرتے۔ سوچنے کی بات ہے کہ اگر اختلاف رحمت ہے تو اتّفاق جو اس کی ضد ہے وہ کیا ہوگا۔ کیا اتّفاق اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے؟ نہیں، ہرگز نہیں، ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔ یہ بالبداہت باطل ہے۔ الغرض اختلاف کی وجہ سے فرقہ بندی پیدا ہوتی ہے اور جب تک فرقہ بندی ختم نہ ہو فلاح و کامرانی کی امید لایعنی ہے۔ اٹھیے اور فرقہ بندی ختم کرنے کے لیے جدّوجہد کیجیے۔

رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں :-

لَتَتْبَعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَڪُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ حَتّى لَوْدَخَلُوْا جُحْرَ ضَبٍّ تَبِعْتُمُوْهُمْ . جو لوگ تم سے پہلے گزرے ہیں تم ضرور ان کے بالشت بہ بالشت اور ہاتھ بہ ہاتھ چلو گے حتّٰی کہ اگر وہ کسی ضبّ کے بل میں داخل ہوئے تو تم بھی ان کی پیردی کرو گے (یعنی تم بھی ضبّ کے بل میں داخل ہو جاؤ گے)۔

صحابہؓ نے پوچھا:

يَا رَسُولَ اللهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارٰى؟ اے اللہ کے رسول، (کیا اگلے لوگوں سے مراد) یہود و نصاریٰ ہیں؟

رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نےفرمایا:-

فَمَنْ؟

(صحیح بخارى، كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة، باب قول النبی لتتبعن سنن من كان قبلكم، 9 / 126، حديث : 7320 / 6889، وصحيح مسلم ،حديث /2669: 6781) تو (اور) کون (ہو سکتا ہے)؟

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ یہ امّت یہود و نصاریٰ کے قدم بقدم چلے گی۔

رسول اللہ صلّی علیہ وسلّم نے فرمایا :

اَ لَّا اِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَڪُمْ مِنْ اَهْلِ الْڪِتَابِ افْتَرَ قُوْا عَلٰى ثِنْتَيْنِ وَ سَبْعِيْنَ مِلَّةً وَاِنَّ هٰذِهٖ الْمِلَّةَ سَتَفْتَرِقُ عَلٰى ثَلٰثٍ وَسَبْعِيْنَ ثِنْتَانِ وَسَبْعُوْنَ فِی النَّارِ وَوَاحِدٌ فِی الْجَنَّةِ وَهِیَ الْجَمَاعَةُ۔(ابوداؤد، كتاب السنة، باب شرح السنة،283 /2 ، حديث : 4597، وسنده صحیح، التعليقات للالبانى على المشكٰوة،61 / 1 ، حديث : 172، والسنة للمروزي حديث : 50) خبردار ہو جاؤ اہلِ کتاب میں سے جو لوگ تم سے پہلے تھے وہ ۷۲ فرقوں میں تقسیم ہو گئے تھے اور یہ ملّت ۷۳ فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ ۷۲ فرقے دوزخ میں (جائیں گے) اور ایک جنّت میں (جائے گا) اور وہ جماعت ہوگی۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اس امّت کے بھی فرقے ہو جائیں گے جس طرح اہلِ کتاب کے فرقے ہوئے تھے یعنی افتراق کے معاملے میں بھی یہ امّت یہود و نصاریٰ کے نقشِ قدم پر چلے گی۔ اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ اہلِ کتاب کس طرح اور کن حالات میں فرقوں میں تقسیم ہوئے تھے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-

وَ مَا تَفَرَّقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنَةُ۝۴

(سُوْرَۃُ لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا: ۹۸، آیت : ٤) اہلِ کتاب فرقوں میں منقسم نہیں ہوئے مگر اس وقت جب کہ ان کے پاس کھلی دلیل آچکی تھی۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-

وَ مَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ،

(سُوْرَۃُ اٰلِ عِمْرٰنَ: ۳ ، آیت : ۱۹) اہلِ کتاب نے اختلاف نہیں کیا مگر اس حالت میں کہ ان کے پاس علم آچکا تھا (پھر محض) آپس کی ضد کی وجہ سے (وہ اس اختلاف پر جمے رہے) ،

آیاتِ بالا سے معلوم ہوا کہ اہلِ کتاب کھلی دلیل کی موجودگی میں محض ضد کی وجہ سے اختلاف پر اڑے رہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ کئی فرقوں میں منقسم ہو گئے۔ اگر وہ کھلی دلیل مل جانے کے بعد اختلاف کو ختم کر دیتے تو فرقے وجود میں نہ آتے یہ ہی حال اس امّت کا بھی ہوا۔ انھوں نے بھی اہلِ کتاب کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے محض ضد و ہٹ دھرمی کی بنا پر حق کو قبول نہیں کیا۔ قرآن مجید اور حدیثِ نبویؐ کی کھلی دلیل مل جانے کے بعد بھی اپنے اختلاف پرجمے رہے۔ نتیجہ وہی ہوا جو اہلِ کتاب کا ہوا تھا یعنی یہ بھی ان ہی کی طرح فرقوں میں منقسم ہو گئے۔ مختلف فرقوں کا وجود اس پر کھلی شہادت ہے۔ ان فرقوں کا یہ حال ہے کہ اگر ان میں سے کسی فرقے یا فرقے کے کسی فرد کے پاس قرآن مجید یا حدیثِ نبویؐ کی کھلی دلیل پہنچتی ہے تو وہ محض ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اسے قبول نہیں کرتا اور اپنے فرقہ وارانہ مذہب پر (قائم) رہتا ہے۔ ایسی صُورت میں کیسے ممکن ہے کہ سب فرقے ایک ہو جائیں۔ اس کی اگر کوئی صُورت ہے تو بس ایک اور وہ یہ کہ فرقوں کو چھوڑ کر الگ ہو جائیں اور اس جنّتی طائفہ کے ساتھ شامل ہو جائیں جس کو رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے ”جماعت" کہا تھا۔ یہ جماعت کن لوگوں کی ہوگی اس کی بھی وضاحت حدیث میں موجود ہے۔

رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا تھا :-

تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِيْنَ وَ اِمَامَهُمْ اور ان کے امام سے چمٹے رہنا۔

اسی حدیث میں ہے کہ حضرت حذیفہؓ نے پوچھا :-

فَاِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّهُمْ جَمَاعَةٌ وَلَا اِمَامٌ اگر نہ مسلمین کی جماعت ہو اور نہ امام (تو کیا کروں؟)

رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا :-

فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا۔

(صحیح بخارى، كتاب الفتن، 65/9، حديث : 7084 / 6673، وصحيح مسلم، كتاب الإمارة، 135/ 2، حديث: 4784 / 1847) ایسی صُورت میں (بھی) تمام فرقوں سے علیٰحدہ رہنا۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جنّتی طائفہ ہوگی، باقی سب فرقے ہوں گے، ان پر کا اطلاق نہیں ہو گا اور نہ وہ کہلاتے ہوں گے۔

اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سے وابستہ رہنا اور تمام فرقوں سے علیٰحدہ رہنا ضروری ہے حتّٰی کہ اگر نہ ہو تو بھی فرقوں میں شامل نہیں ہونا چاہیے تعجّب ہے ان لوگوں پر جو فرقہ بندی کو لعنت سمجھتے ہوئے بھی ان فرقوں سے علیٰحدہ نہیں ہوتے۔ یہ درحقیقت قول و فعل کا تضاد ہے۔ زبان سے تو انھیں اقرار ہے کہ فرقہ بندی ضلالت ہے اور اس اصول میں وہ ہمارے ساتھ متّفق ہیں۔ کیوں کہ یہ اصول ہمارے اور ان کے درمیان مشترک ہے لہٰذا اسی مشترک اصول پر ہم ان کو عمل کی دعوت دیتے ہیں۔ ہم ان سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس اصول پر عملاً بھی کار بند ہو جائیں اور تمام فرقوں سے علیٰحدہ ہو کر اور ان کے امام سے وابستہ ہو جائیں۔ فرقوں میں رہتے ہوئے نہ اصلاح ہو سکتی ہے، نہ اتّفاق ہو سکتا ہے۔ اگر کسی مسئلے میں کھلی دلیل کو مان بھی لیا تو آخر تمام کھلی دلیلوں کو مان لینے کے لیے عمر درکار ہے۔ مزید برآں کسی مسئلے میں کسی کھلی دلیل کو مان لینے سے فرقہ بندی ختم نہیں ہوگی۔ فرقہ بندی کو ختم کرنے کا ایک ہی ذریعہ ہے وہ یہ کہ ان فرقوں کے وجود کو ختم کر دیا جائے، از سرِ نو اسلام کی طرف رجوع کیا جائے، براہِ راست قرآن مجید اور احادیثِ صحیحہ کا اتّباع کیا جائے، اس طرح نہ اختلاف رہے گا اور نہ فرقے رہیں گے۔

فرقہ بندی کی حیثیت: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-

وَ لَا تَڪُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ۝۳۱ مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا،كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ۝۳۲

(سُوْرَۃ ُ الرُّوْمِ: ۳۰، آیت : ۳۱ تا ۳۲) مشرکوں میں سے نہ ہو جاؤ۔ (یعنی) ان لوگوں میں سے جنھوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور فرقے فرقے ہو گئے،تمام فرقے جو کچھ ان کے پاس ہے اسی میں مگن ہیں۔

آیت مذکورہ سے معلوم ہوتا ہے کہ فرقہ بندی کے ڈانڈے شرک سے جا ملتے ہیں اور اس کی وجہ بالکل ظاہر ہے۔ جب کسی شخص کے پاس جو کسی خاص فرقے سے تعلّق رکھتا ہو قرآن مجید یا حدیثِ نبویؐ کی کھلی دلیل پہنچتی ہے تو وہ اسے تسلیم نہیں کرتا۔ اپنے مذہب کو مانتا ہے، اپنے امام، پیر یا بزرگ کے قول و فعل کو تو حجّت سمجھتا ہے اور قرآن مجید یا حدیثِ نبویؐ کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے۔ کیا یہ کفر کی علامت نہیں؟ اپنے مذہب کی باتوں یا اپنے امام یا اپنے پیر کی باتوں کو دین میں داخل کرنا کیا یہ شرک فی الدّین نہیں؟ شعوری طور پر یا غیر شعوری طور پر ہر فرقے کے افراد اس شرک میں ملوّث نظر آتے ہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا :-

اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِیْ شَیْءٍ،اِنَّمَاۤ اَمْرُهُمْ اِلَی اللّٰهِ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ۝۱۵۹

(سُوْرَۃُ الْاَنْعَامِ: ۶، آیت : ۱۵۹) (اے رسول) جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور فرقے فرقے بن گئے ان سے آپ کا کوئی تعلّق نہیں، ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے، پھر وہی (قیامت کے دن) انھیں بتائے گا کہ وہ کیا کرتے رہے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے اس امّت کو اہلِ کتاب کی طرح فرقے بنانے سے منع کیا تھا۔

اللہ تعالٰی نے فرمایا تھا :-

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَ اخْتَلَفُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْبَیِّنٰتُ،وَ اُوْلٰٓىِٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۝۱۰۵ (سُوْرَۃُ اٰلِ عِمْرٰنَ: ۳ ، آیت : ۱۰۵) (اے ایمان والوں) تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقے فرقے بن گئے اور کھلے دلائل آجانے کے بعد بھی اختلاف پر (قائم) ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا :-

وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا،

(سُوْرَۃُ اٰلِ عِمْرٰنَ: ۳ ، آیت : ۱۰۳) اور (اے ایمان والو) تم سب مل کر اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور فرقے فرقے نہ بنو۔

الغرض اللہ تعالیٰ نے بار بار تاکید کی تھی کہ فرقے نہ بنانا لیکن اہلِ کتاب کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اس امّت میں بھی وہی ہوا جو اہلِ کتاب میں ہوا تھا۔ مختلف فرقے بن گئے اور ہر فرقہ اپنے آپ کو حق پر سمجھتا ہے۔ .

اہلِ قرآن، اہلِ حدیث، حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی، خارجی، شیعہ، نقشبندی، سہروردی وغیرہ نام کا کوئی فرقہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے زمانے میں نہیں تھا۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے زمانے میں بس ایک جماعت تھی اور وہ تھی۔ اس زمانے میں بس صرف ایک کا وجود تھا اور اس کے علاوہ کسی فرقے کا وجود نہیں تھا۔ ایک موقع پر عیدگاہ میں حاضری کے سلسلے میں آپ نے ان خواتین کے متعلّق جو اذیّت ماہانہ میں ہونے کی وجہ سے نماز میں شریک نہ ہو سکیں فرمایا تھا :-

فَاَمَّا الْحُيَّضُ فَيَشْهَدْنَ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِيْنَ وَدَعْوَتَهُمْ وَيَعْتَزِلْنَ مُصَلَّا هُمْ۔

(صحیح بخارى، كتاب العيدين، باب اعتزال الحيض المصلى، جزء 2 صفحہ 28، حديث : 981 / 938 ، حديث: 351 / 344 ) جو عورتیں اذیّت ماہانہ میں ہوں وہ بھی

اور ان کی دعاؤں میں شریک رہیں البتّہ نماز پڑھنے کی جگہ سے علیٰحدہ رہیں۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے زمانے میں ایمان والوں کی جماعت کا نام تھا اور اسی نام کی جماعت سے چمٹے رہنے کی ہدایت رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمائی تھی جیسا کہ صفحہ ؀ 19 ، پر گزر چکا ہے۔

آخر میں ہم پھر قارئین سے گزارش کرتے ہیں کہ آیے، ایک مرکز پر جمع ہو جایے، تمام فرقوں کو ختم کردیجیے، آپ کا کوئی نام نہ ہو سوائے مسلؔم کے، آپ کی کوئی جماعت نہ ہو سوائے کے، آپ کا کوئی امام نہ ہو سوائے محمّد رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے جن کو اللہ تعالیٰ نے امام بنا کر بھیجا ہے، جن کی اطاعت اور اتّباع کو فرض کیا ہے، جن کی اطاعت و اتّباع کو ہدایت کا ذریعہ بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے امام کی موجودگی میں اپنے بنائے ہوئے اماموں کو مرکزِ دین سمجھنا کون سی عقل مندی ہے، کیا ایمان کی یہ ہی شان ہے؟

اٹھیے، تمام فرقہ وارانہ مذاہب و مسالک کو ختم کردیجیے۔ آپ کا کوئی دین نہ ہو سوائے اسلام کے، کوئی چیز ماخذِ قانون نہ ہو سوائے قرآن مجید اور احادیثِ صحیحہ کے، کوئی چیز سند نہ ہو سوائے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کی بات کے۔

اٹھیے، مذہب پرستی، وطن پرستی، قوم پرستی، زبان پرستی، شخصیت پرستی، صوبہ پرستی، فرقہ پرستی اور عصبیّت پرستی کے بتوں کو توڑ کر پھینک دیجیے، اللہ پرستی کا جذبہ پیدا کیجیے اور اللہ تعالیٰ ہی کے لیے محبّت کیجیے۔

کا کسی فرقے سے تعلّق نہیں۔ کی دعوت۔ اسلؔام کی دعوت ہے، اس دین کی دعوت ہے جو رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے زمانے میں تھا۔آیے اور میں شامل ہوکر دینِ اسلاؔم کی خدمت کیجیے۔

______________________________________

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

خاتم الانبیآ و المرسلین، امام الانبیآ ، رحمۃلّلعالمین صلّی اللہ علیہ وسلّم کا فرمانِ حق : تَلْزَمُ جَمَاعَۃَ الْمُسْلِمِیْنَ وَاِمَامَھُمْ، فَقُلْتُ فَاِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّھُمْ جَمَاعَۃٌ وَلَا اِمَامٌ؟ قَالَ فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ ڪُلَّھَا…..

اور اس کے امام کو لازم پکڑنا، (حذیفہؓ نے) پوچھا: اگر جماعت اور اس کا امام نہ ہو تو کیا کروں؟ (آپؐ نے) فرمایا: (توبھی) تمام فرقوں سے علیٰحدہ رہنا ۔ ۔ ۔ ۔

(صحیح بخاری،حدیث نمبر7084/6673 وصحیح مسلم حدیث نمبر4784/1847)